Friday, November 19, 2010

dard ek nazm by bhavna kunwar

دردڈاکٹر بھاؤنا کنور
سڈنی (آسٹریلیا

کل جب وہ

میری گود میں آیا ،

بہت معصوم!
بہت کومل!اس سنگ
دل دنیا سے
اچھوتا سا ،
خاموش !

بالکل پرسکون!

نا کوئی دھڑکن

نا ہی کوئی ہلچل.

میرا صلونی ،

میرا ننمہا ،

بغیر دھڑکن کے میری بانہوں میں.

نہیں بھول پاتی

اس کا معصوم چہرہ ،

نہیں بھول پاتی

اس کا لمس.

بس جی رہیں ہوں

اس کی یادوں کے سہارے.

دیکھتی ہوں

ہر رات اس کا چہرہ

ٹمٹماتے تاروں کے درمیان

اور جب بھی کوئی تارا

مزید چمکدار  ہوتا ہے ،

لگتا ہے میراننھا

لوٹ آیا ہے

تارا بن کر

اور کہتا ہے
"
مت رو ماں میں یہیں ہوں


تمہارے سامنے

میں روز دیکھا کرتا ہوں تمہیں

یوں ہی روتے ہوئے

میرا دل روتا  ہے ماں

تمہیں یوں دیکھ کر

میں تو آنا چاہتا تھا ،

لیکن نہیں آنے دیا

ایک ڈاکٹر کی لاپرواہی نے مجھے

مٹا ہی ڈالا میرا وجود
اس دنیا سے ،
پر ماں تم فکر مت کرو
میں یہاں خوش ہوں

کیوں کہ میں ملتا ہوں روز ہی تم سے
تم بھی دیکھا کرو مجھے وہاں سے.
نہیں چھین پاےگی یہ دنیا
اب کبھی بھی
یہ ملن ہمارا...سڈنی (آسٹریلیا)
व्यथा
डॉ भावना कुँअर

कल जब वो
मेरी गोद में आया,
बहुत मासूम !
बहुत कोमल !
इस संग दिल दुनिया से
अछूता -सा,
शान्त!
बिल्कुल शान्त !
ना कोई धड़कन
ना ही कोई हलचल।
मेरा सलौना,
मेरा नन्हा,
बिना धड़कन के मेरी बाहों में।
नहीं भूल पाती
उसका मासूम चेहरा,
नहीं भूल पाती
उसका स्पर्श।
बस जी रहीं हूँ
उसकी यादों के सहारे।
देखती हूँ
हर रात उसका चेहरा
टिमटिमाते तारों के बीच
और जब भी कोई तारा
ज्यादा प्रकाशमान होता है,
लगता है मेरा नन्हा
लौट आया है
तारा बनकर
और कहता है-
"मत रो माँ मैं यहीं हूँ
तुम्हारे सामने
मैं रोज़ देखा करता हूँ तुम्हें
यूँ ही रोते हुये
मेरा दिल दुखता है माँ
तुम्हें यूँ देखकर
मैं तो आना चाहता था,
किन्तु नहीं आने दिया
एक डॉक्टर की लापरवाही ने मुझे
मिटा ही डाला मेरा वज़ूद
इस दुनिया से,
पर माँ तुम चिन्ता मत करो
मैं यहाँ खुश हूँ
क्योंकि मैं मिलता हूँ रोज़ ही तुमसे
तुम भी देखा करो मुझे वहाँ से।
नहीं छीन पायेगी ये दुनिया
अब कभी भी
ये मिलन हमारा
-0-
सिडनी (आस्ट्रेलिया)


--
आदिल रशीद 
Aadil Rasheed
http://aadil-rasheed-hindi.blogspot.com

Sunday, September 19, 2010

او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟/ للت کمار


او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟

اندھی  للچائی سی آنکھیں کیلئے

تمہارا شکار کرنا چاہتی ہے

دھوپ ، جو کبھی دوست تھی

آج چاہتی ہے تمہیں دینا جلا


تمہارا تن ، یہ تنااب تو کھوکا ہو چلا

کیا تم ان پرندوں  کی سوچتے ہو؟


جنھوں نے بسایے تھے تم پر

اپنے گھر اورسپنے  نئے

آندھی  نے ذرا تمہیں ہلایا

وہ ساتھ تمہارا چھوڑ گئے

کہیں سوچتے تو نہیں تم

اس کے بارے میںوہ گلہری

  جوایک اس دنیا سارے میں

بہت خوش ہوتے تھے تم

دیکھ اس کی اٹھکھیلیاں

سوچتے تھے کہ یہی زندگی ہے

خوبصورت سی  ، پیاری سی

  پر تم بھول گئے تھے کہ تم تو

صرف ایک پیڑ ہوچل نہیں سکتے

دیکھو دنیا ،پرندے  اورگلہری

سب آگے دوڑ گئے ہیںبولو اب وہ کہاں ہیں؟

ہے کون اس ویرانے میںتمہارے ساتھ؟

اکیلی  زندگی اب لگتی  ہے  تم کو

کالی اور اندھیاری رات
ہاں ہاں معلوم ہے

ایک   سوکھی  ، جلی ، مرجھائی  ہوئی پتی

جسے تم امید کہتے ہواب بھی

تم سے جڑی ہوئی ہے

پر کیا ایک مرجھائی ہوئی

امید کے سہارےاتنا درد سہنا ٹھیک ہے؟

کیا پا لوگے بس  کچھ اور پل

یوں ہی اس زمیں پرکھڈے  ہوئے؟

نا تم میں سایا  ہے

پھل پھول تو چھوڈو

ایندھن بھی نہ   بن سکے تم

ایسی تمہاری کایا ہے
سنو او پیڑ ، تم گر جاؤ

خوش ہو لینے دو آندھی   کو

اپنی تھکی  ہوئی  جڑوں کو آرام دو

تمہیں جلا کر چیں  ملے گا

دھوپ کو بھی کچھ کام دو

گر کر تم جو خالی کروگے

اس جگہ اگیں گے  نئے پودے

کڑوے پھلوں اور کانٹوں کی بھی

ہے اس جگ میں   بڈی اہمیت 

پوری طرح بے کار ہے تمہارا وجود

کیوں چاہتے ہو رہنا کھڈے ؟

یوں کھڑے  کھڑے

بھلاتم کس کے ہو کام آتے؟

او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟

او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟


للت کمار نئی دہلی


اردو ترجمہ : عادل رشید 




 

Wednesday, September 15, 2010

ओ पेड़, तुम गिर क्यों नहीं जाते?/ ललित कुमार

 हिंदी 
ओ पेड़, तुम गिर क्यों नहीं जाते?
आंधी
ललचाई सी आँखें लिये
तुम्हारा शिकार करना चाहती है
धूप,
जो कभी दोस्त थी
आज चाहती है तुम्हें देना जला
तुम्हारा तन, ये तना
अब तो खोखला हो चला
क्या तुम उन पंछियों की सोचते हो?
जिन्होनें बसाये थे तुम पर
अपने घर और सपनें नये
आंधी ने ज़रा तुम्हें हिलाया
वे साथ तुम्हारा छोड़ गये
कहीं सोचते तो नहीं तुम
उसके बारे में
वो गिलहरीथी जो
एक इस संसार सारे में
बहुत खुश होते थे तुम
देख उसकी अठखेलियाँ
सोचते थे कि यही जीवन है
सुंदर सा, प्यारा सा
पर तुम भूल गये थे कि
तुम तो केवल एक पेड़ हो
चल नहीं सकते
देखो दुनिया, पंछी और गिलहरी
सब आगे दौड़ गये हैं
बोलो अब वे कहाँ हैं?
है कौन इस वीराने में
तुम्हारे साथ?
अकेले जीवन अब लगता तुमको
काली एक अंधियारी रात
हाँ हाँ मालूम है
एक सूखी, जली, मुरझाई हुई पत्ती
जिसे तुम उम्मीद कहते हो
अब भी तुमसे जुड़ी हुई है
पर क्या एक मुरझाई हुई
उम्मीद के सहारे
इतना दर्द सहना ठीक है?
क्या पा लोगे कुछ और पल
यूँ ही इस ज़मीं पर खडे़ हुए?
ना तुम में छाया है
फल फूल तो छोडो़
ईंधन भी ना बन सके
ऐसी तुम्हारी काया है
सुनो ओ पेड़, तुम गिर जाओ
खुश हो लेने दो आंधी को
अपनी थकी हुई जड़ों को आराम दो
तुम्हे जला संतोष मिलेगा
धूप को भी कुछ काम दो
गिर कर तुम जो खाली करोगे
उस जगह उगेंगे नये पौधे
कड़वे फलों और पैने काँटों का भी
है इस जग में महत्व बड़ा
तुम पूरी तरह उपयोगहीन
क्यूँ चाहते हो रहना खड़ा?
यूँ खड़े-खड़े भला
तुम किसके हो काम आते?
ओ पेड़, तुम गिर क्यों नहीं जाते?
ओ पेड़, तुम गिर क्यों नहीं जाते?
ललित कुमार



  ہندی نثری نظم او پیڈ تم گر کیوں نہیں جاتے/ لت کمار


او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟

اندھی  للچائی سی آنکھیں کیلئے

تمہارا شکار کرنا چاہتی ہے

دھوپ ، جو کبھی دوست تھی

آج چاہتی ہے تمہیں دینا جلا


تمہارا تن ، یہ تنااب تو کھوکا ہو چلا

کیا تم ان پرندوں  کی سوچتے ہو؟


جنھوں نے بسایے تھے تم پر

اپنے گھر اورسپنے  نئے

آندھی  نے ذرا تمہیں ہلایا

وہ ساتھ تمہارا چھوڑ گئے

کہیں سوچتے تو نہیں تم

اس کے بارے میںوہ گلہری

  جوایک اس دنیا سارے میں

بہت خوش ہوتے تھے تم

دیکھ اس کی اٹھکھیلیاں

سوچتے تھے کہ یہی زندگی ہے

خوبصورت سی  ، پیاری سی

  پر تم بھول گئے تھے کہ تم تو

صرف ایک پیڑ ہوچل نہیں سکتے

دیکھو دنیا ،پرندے  اورگلہری

سب آگے دوڑ گئے ہیںبولو اب وہ کہاں ہیں؟

ہے کون اس ویرانے میںتمہارے ساتھ؟

اکیلی  زندگی اب لگتی  ہے  تم کو

کالی اور اندھیاری رات
ہاں ہاں معلوم ہے

ایک   سوکھی  ، جلی ، مرجھائی  ہوئی پتی

جسے تم امید کہتے ہواب بھی

تم سے جڑی ہوئی ہے

پر کیا ایک مرجھائی ہوئی

امید کے سہارےاتنا درد سہنا ٹھیک ہے؟

کیا پا لوگے بس  کچھ اور پل

یوں ہی اس زمیں پرکھڈے  ہوئے؟

نا تم میں سایا  ہے

پھل پھول تو چھوڈو

ایندھن بھی نہ   بن سکے تم

ایسی تمہاری کایا ہے
سنو او پیڑ ، تم گر جاؤ

خوش ہو لینے دو آندھی   کو

اپنی تھکی  ہوئی  جڑوں کو آرام دو

تمہیں جلا کر چیں  ملے گا

دھوپ کو بھی کچھ کام دو

گر کر تم جو خالی کروگے

اس جگہ اگیں گے  نئے پودے

کڑوے پھلوں اور کانٹوں کی بھی

ہے اس جگ میں   بڈی اہمیت 

پوری طرح بے کار ہے تمہارا وجود

کیوں چاہتے ہو رہنا کھڈے ؟

یوں کھڑے  کھڑے

بھلاتم کس کے ہو کام آتے؟

او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟

او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟


للت کمار نئی دہلی


اردو ترجمہ : عادل رشید