Sunday, September 19, 2010

او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟/ للت کمار


او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟

اندھی  للچائی سی آنکھیں کیلئے

تمہارا شکار کرنا چاہتی ہے

دھوپ ، جو کبھی دوست تھی

آج چاہتی ہے تمہیں دینا جلا


تمہارا تن ، یہ تنااب تو کھوکا ہو چلا

کیا تم ان پرندوں  کی سوچتے ہو؟


جنھوں نے بسایے تھے تم پر

اپنے گھر اورسپنے  نئے

آندھی  نے ذرا تمہیں ہلایا

وہ ساتھ تمہارا چھوڑ گئے

کہیں سوچتے تو نہیں تم

اس کے بارے میںوہ گلہری

  جوایک اس دنیا سارے میں

بہت خوش ہوتے تھے تم

دیکھ اس کی اٹھکھیلیاں

سوچتے تھے کہ یہی زندگی ہے

خوبصورت سی  ، پیاری سی

  پر تم بھول گئے تھے کہ تم تو

صرف ایک پیڑ ہوچل نہیں سکتے

دیکھو دنیا ،پرندے  اورگلہری

سب آگے دوڑ گئے ہیںبولو اب وہ کہاں ہیں؟

ہے کون اس ویرانے میںتمہارے ساتھ؟

اکیلی  زندگی اب لگتی  ہے  تم کو

کالی اور اندھیاری رات
ہاں ہاں معلوم ہے

ایک   سوکھی  ، جلی ، مرجھائی  ہوئی پتی

جسے تم امید کہتے ہواب بھی

تم سے جڑی ہوئی ہے

پر کیا ایک مرجھائی ہوئی

امید کے سہارےاتنا درد سہنا ٹھیک ہے؟

کیا پا لوگے بس  کچھ اور پل

یوں ہی اس زمیں پرکھڈے  ہوئے؟

نا تم میں سایا  ہے

پھل پھول تو چھوڈو

ایندھن بھی نہ   بن سکے تم

ایسی تمہاری کایا ہے
سنو او پیڑ ، تم گر جاؤ

خوش ہو لینے دو آندھی   کو

اپنی تھکی  ہوئی  جڑوں کو آرام دو

تمہیں جلا کر چیں  ملے گا

دھوپ کو بھی کچھ کام دو

گر کر تم جو خالی کروگے

اس جگہ اگیں گے  نئے پودے

کڑوے پھلوں اور کانٹوں کی بھی

ہے اس جگ میں   بڈی اہمیت 

پوری طرح بے کار ہے تمہارا وجود

کیوں چاہتے ہو رہنا کھڈے ؟

یوں کھڑے  کھڑے

بھلاتم کس کے ہو کام آتے؟

او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟

او پیڑ ، تم گر کیوں نہیں جاتے؟


للت کمار نئی دہلی


اردو ترجمہ : عادل رشید 




 

No comments:

Post a Comment